فقر و فاقہ
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - غربت اور بھوک، تنگی تُرشی۔ "انہیں اسکی بڑی فکر رہتی تھی کہ عوام فقر و فاقے سے نجات پائیں۔" ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٨٧ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق دو اسما 'فَقْر' اور 'فاقہ' کو بالترتیب حرف عطف 'و' کے ذریعے ملادینے سے مرکب عطفی بنتا ہے۔ جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨٧٨ء کو "گلزار داغ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - غربت اور بھوک، تنگی تُرشی۔ "انہیں اسکی بڑی فکر رہتی تھی کہ عوام فقر و فاقے سے نجات پائیں۔" ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٨٧ )
جنس: مذکر